حیدرآباد اسکول کھلنے کے اعلانات کے بعد میرے ایک عزیز نے اپنے بچے کو نرسری میں داخلہ کروانے کی نیت سے سٹی اسکول سے رابطہ کیا
جس پر سٹی اسکول کی جانب سے یہ چالان ہاتھ میں تھما دیا گیا۔ 47782 فیس اسٹریکچر دیکھتے ہی بچے کے والد کو ایسا محسوس ہوا کہ میرا بیٹا جوان ہو گیا ہے اور میں کسی یونیورسٹی میں اس کو داخلہ دلوا نے لے جا رہا ہوں 😄 بہرحال نرسری کی ایڈمیشن فیس دیکھ کر میرے عزیز کو لاک ڈاؤن کے سکون بھرے دن یاد آ گئے جس میں نہ کوئی فیس تھی نہ کوئی ٹینشن تھی 😞 ایک غریب ملک میں بچے کی پڑھائی کا اتنا بوجھ
ایسی کونسی پڑھائی گھول کر پلا رہے ہیں جس کی اتنی فیس وصول کی جا رہی ہے خدارا حکام بالا حکومت اس بات کا نوٹس لے زیادہ فیس لینے والے اسکولوں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Hi !! Dear