دس محرم کا روزہ
خاص طور پر محرم کی دسویں تاریخ جس کو عام طور پر ’’ عاشوراء‘‘ کہا جاتا ہے، جس کے معنی ہیں ’’ دسواں دن‘‘ یہ دن اللہ تعالیٰ کی رحمت اور و برکت کا خصوصی طور پر حامل ہے۔ جب تک رمضان کے روزے فرض نہیں ہوئے تھے، اس وقت تک ’’ عاشوراء‘‘ کا روزہ رکھنا مسلمانوں پر فرض قرار دیا گیا تھا، بعدمیں جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو اس وقت عاشوراء کے روزے کی فرضیت منسوخ ہو گئی، لیکن حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کو سنت اور مستحب قرار دیا۔ ایک حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ مجھے اللہ جل شانہ کی رحمت سے یہ امید ہے کہ جو شخص عاشورہ کے دن روزہ رکھے گا تو اس کے پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جائیگا۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حِينَ صَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ يَوْمٌ يُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ إِنْ شَاءَ اللهُ صُمْنَا يَوْمَ التَّاسِعِ ". قَالَ : فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ( رواه مسلم )
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشورہ میں روزہ رکھنے کو اپنا اصول و معمول بنا لیا اور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا تو بعض صحابہ نے عرض کیا کہ : یا رسول اللہ ! اس دن کو تو یہود و نصاریٰ بڑے دن کی حیثیت سے مناتے ہیں ( اور یہ گویا ان کا قومی و مذہبی شعار ہے اور خاص اس دن ہمارے روزہ رکھنے کے ان کے ساتھ اشتراک اور تشابہ ہوتا ہے ، تو کیا اس میں کوئی ایسی تبدیلی ہو سکتی ہے جس کے بعد یہ اشتراک اور تشابہ والی بات باقی نہ رہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ان شاء اللہ ! جب اگلا سال آئے گا تو ہم نویں کو روزہ رکھیں گے .... عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لیکن اگلے سال کا ماہ محرم آنے سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات واقع ہو گی
🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃
تشریح: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عاشوراء کے روزے میں اس بات کا اہتمام کیا اور ۹؍محرم یا ۱۱؍ محرم کا ایک روزہ رکھا اور اس کو مستحب قرار دیا اور تنہا عاشوراء کے روزہ رکھنے کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی روشنی میں خلاف اولیٰ قرار دیا، یعنی اگر کوئی شخص صرف عاشوراء کا روزہ رکھ لے تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا بلکہ اس کو عاشوراء کے دن روزہ کا ثواب ملے گا لیکن چوں کہ آپ ؐ کی خواہش دو روزے رکھنے کی تھی، اس لیے خواہش کی تکمیل میں بہتر یہ ہے کہ ایک روزہ ملا کر دو روزے رکھے جائیں ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Hi !! Dear